خواجہ سراء

0
352
تحریر: باسط زمان سیال

ہمارے معاشرے بلکہ عالمی معاشرے کے وہ افراد ہیں جن کے تخلیقی دُکھ کا مداواہ نہیں کیا جا سکتا. پیدائش سے ہی آزمائشوں میں گھرے یہ لوگ مصیبتوں, صعوبتوں اور معاشرتی دھتکار کا شکار ہوتے ہیں.ہماری ہر خوشی میں سب سے پہلے شریک ہونے والے یہی لوگ ہیں چاہے ہمارے ہاں بچہ پیدا ہو تب, ہمارے ہاں کوئی شادی ہو یا کوئی بھی تہوار ہو اس میں خواجہ سراء پیش پیش نظر آتے ہیں انہوں نے کبھی اس بات کا احساس نہیں ہونے دیا کہ یہ کوئی غیر ہیں مگر معاشرے نے ہمیشہ ان کو اچھوت یا دوسری مخلوق ہونے کا احساس دلایا ہے.

Embed from Getty Images

مجھے اس بات کا اِدراک تب ہوا جب میں نے ایک خواجہ سرا سے یہ پوچھا کہ آپ کو معاشرہ کس نگاہ سے دیکھتا ہے تو اس کا جواب ہلا دینے والا تھا جب اس نے کہا کہ صاحب ” ہم لوگ معاشرے کے لیے تفریح اور مذاق اُڑانے کے سوا کُچھ نہیں ہیں, جس کا کسی پر بس نہ چلے وہ ہم پر رعب ڈال کر اور حُکم چلا کر ہمیں یہ احساس ضرور دلاتا ہے کہ ہم گھٹیا اور نیچ کے سوا کُچھ نہیں”. اس کا جواب سن کر میں سکتے میں آ گیا اور سوچا کہ ہم لوگ صرف باتیں ہی کر سکتے ہیں لوگوں کو اچھائی کا درس دے سکتے ہیں مگر اس پر عمل سے قاصر نظر آتے ہیں. معاشرے کے ان مظلوم, پسے ہوئے اور مجبور لوگوں کے ساتھ ہمارے رویہ غلاموں سے بھی بد تر ہوتا ہے جن پر آزمائش اس وقت ہی شروع ہو جاتی ہے جب وہ پیدا ہوتے ہیں. جب وہ جوان ہونے کو آتے ہیں اس وقت ان کے والدین ان کو گھر سے نکال دیتے ہیں پھر دُنیا کی مصیبتوں میں گھر جاتے ہیں تب نہ ہی حکومت اور نہ ہی کوئی ایسا ادارہ جو ان کی کفالت کی زمہ داری لے ان کے حقوق کی جنگ کرتا نظر آتا ہے ماسوائے چند ایک دردِ دل رکھنے والے اشخاص کے جو کہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہیں.

Embed from Getty Images

نہ ہی ان کی تعلیم کیلیے سرکاری یا غیر سرکاری طور پر احسن اقدامات کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے خواجہ سراؤں کی ایک بڑی تعداد ایسے کام کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے جن کی وجہ سے ان کی معاشرے میں قدر مزید کمزور ہو جاتی ہے یا وہ.ہمیں چوراہوں پر بھیک مانگتے نظر آتے ہیں. کیا تعلیم حاصل کرنا اور معاشرے کے باقی افراد کی طرح با عزت زندگی گُزارنا ان کا حق نہیں ہے؟ آئے روز خواجہ سراؤں کیساتھ پیش آنے والے گھٹیا, گھناؤنے اور پر تشدد واقعات سامنے آتے ہیں جنہیں پڑھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے مگر کون ان کے دُکھ اور بے بسی کا مداوا کرے گا ؟ کون ان کو ان کا بنیادی حق دلوانے میں ان کا ساتھ دے گا؟ کیا شناختی کارڈ کا حصول ہی کافی ہے؟؟ کیا نوکریوں میں ان کا کوٹا رکھنا ہی کافی ہے؟؟ بالکل نہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کو بھی اتنا ہی حق اور تحفظ دیا جائے جتنا کہ معاشرے کے دیگر نفوس کو میسر ہے اس کے لئے حکومت کو خاطر خواہ اقدامات کرنا ہوں گے. حکومت کو چاہئیے کہ خواجہ سراؤں کو بھی اسی طرح حقوق فراہم کرے جس طرح دیگر تنظیموں یا شہریوں کو فراہم کئیے جاتے ہیں. خواجہ سراؤں کیلیے سکول, کالجز اور یونیورسٹیز میں ان کا تعلیمی کوٹہ رکھا جائے اور اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو ان کے الگ تعلیمی ادارے بنائے جائیں جن کا معیار ملک کے باقی تعلیمی اداروں سے قطعئ مختلف نہ ہو. کسی کو ان پر تشدد کرنے کی اجازت نہ دی جائے اور اگر کوئی ان کیساتھ ظُلم کرے تو اس کو قرار واقعی سزا دی جائے اور اس کے لیے قانون سازی کی جائے.

Embed from Getty Images

اگر کوئی خواجہ سراؤں کی ہتکِ عزت کرے یا مذاق اُڑائے جس سے ان کے حوصلے پست ہونے یا احساسِ کمتری پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس پر بھی سزا مقرر کی جائے تاکہ خواجہ سراء معاشرے میں بلا خوف و خطر عزت سے زندگی گزاریں. یہ ایسے اقدامات ہیں جن سے ہماری حکومت معاشرے کے اس مجبور اور پسے ہوئے طبقے کی مدد کر سکتی ہے اور ان کو معاشرے میں ایک با عزت مقام دلانے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے. ہمیں بھی اس کار خیر میں خواجہ سراؤں اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے جس کی مدد سے معاشرے کے تمام افراد بلا تفریق اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں.
اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here